مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یمن کے معاملے میں ایران کی مداخلت سے متعلق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے جھوٹے الزامات سے زمینی حقائق نہیں بدل سکتے۔
بقائی نے سوشل میڈیا پر اپنے ذاتی صفحے پر لکھا کہ انصار اللہ ایک آزاد گروہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے، نہ وہ کسی سے احکامات لیتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کا نیابتی گروہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑیں امریکہ کی فوجی مداخلتوں اور اس کی غلبہ پسند پالیسیوں میں تلاش کی جانی چاہئیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن واقعی امن کا خواہاں ہے تو اسے صرف ایک سادہ قدم اٹھانا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ خطے میں اپنی بدنیتی پر مبنی پالیسیوں اور عدم استحکام پیدا کرنے والی مداخلتوں کا خاتمہ کرے۔
بقائی نے واضح کیا کہ یمن میں بمباری اور بیرونی دباؤ کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن کا آغاز فریقین کے درمیان طے شدہ روڈ میپ کی بنیاد پر مخلصانہ مذاکرات سے ہوتا ہے۔
آپ کا تبصرہ